مُجھے آج بھی یاد ہے فروری 2012 میں جب میں یوگنڈا جانے لگا تھا تو میرے ایک دوست ن

مُجھے آج بھی یاد ہے فروری 2012 میں جب میں یوگنڈا جانے لگا تھا تو میرے ایک دوست ن

مُجھے آج بھی یاد ہے فروری 2012 میں جب میں یوگنڈا جانے لگا تھا تو میرے ایک دوست نے مُجھ سے بہت ہی طنزیہ بات کی کہ “نومی تم اتنے تھکے مُلک میں کیا کرنے جا رہے ہو”، 10 فروری کی صبح جب میں اینٹیبے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اترا تب سے لے کر آج تک مجھے ایک لمحے کیلۓ بھی یوگنڈا تھکا نہیں لگا بلکہ یوگنڈا نے مجھے اپنی خوبصورتی میں تھکا دیا جس کی مثال یہ آنکھوں کی بینائی سے محروم گانا گانے والا ہے جسے ملنے کا مجھے بہت شوق تھا اور پھر میں صرف اس لڑکے کو ملنے کے لئے کمپالا سے مسِنڈی گیا،اللہ یوگنڈا کو بہت ترقی دے گا انشاءاللہ ایک وقت آئے گا جب یوگنڈا کو دُنیا تھکا مُلک نہیں کہے گی،

Long live my Uganda 🇺🇬❤️🌹🙏😘😍💐

celebrating independence day of Uganda.

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close